میرے محترم سامعین ! آج ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑی فکری غلطی جڑ پکڑ چکی ہے، اور وہ ہے تو کل کا غلط تصور۔ جب حالات سازگار نہیں رہتے ، تو ہم میں سے بہت سے لوگ اسے اللہ کی رضا قرار دے کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جاتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیا ہے، حالانکه در حقیقت ہم نے اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کیا ہوتا ہے۔یاد رکھیے! اسلام میں بزدلی اور سستی کا نام تو کل نہیں ہے۔توکل کا لغوی معنی کسی کو وکیل بنانا ہے۔ جب آپ کسی کو وکیل بناتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ گھر جا کر سو جا ئیں ، بلکہ آپ وکیل کو تمام ثبوت اور دستاویزات فراہم کرتے ہیں اور پھر اسکی مہارت پر بھروسہ کرتے ہیں ۔اسلامی شریعت میں توکل کا مطلب یہ ہے کہ : “ظاہری اسباب کو پوری قوت کے ساتھ استعمال کیا جائے اور نتیجہ اللہ کے سپرد کر دیا جائے ۔ اگر کوئی کسان بیچ نہ ہوئے ، پانی نہ دے اور کہے کہ میرا اللہ پر توکل ہے کہ فصل اگی گی ، تو یہ تو کل نہیں بلکہ حماقت ہے۔ فصل اسی کی اگتی ہے جو پہلے پسینہ بہاتا ہے اور پھر اللہ سے بارش کی دعا مانگتا ہے۔اس مفہوم کو سمجھنے کے لیے وہ مشہور حدیث مبارکہ ایک مینارہ نور ہے جب ایک صحابی نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی ییم ! کیا میں اپنی اونٹنی کو کھلا چھوڑ کر تو کل کروں یا اسے باندھ کر ؟ آپ صلی السلام نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو رہتی دنیا تک کے لیے رہنما ہے : اعْقِلُهَا وَتَوَكَّل‘ (پہلے اسے باندھو، پھر تو کل کرو ) ۔