*دوستو! وقت نکال کر ضرور پڑھیں پھر نہ کہنا ہمیں پتہ نہیں تھا*

آج کل کے حالات میں مسلمان کو نقصان پہنچانے، اس کے خلاف بغیر تحقیق کھڑے ہونے اور ظلم کا ساتھ دینے والوں کے لیے نصیحت و تنبیہ قرآنی آیات اور صحیح احادیث کی روشنی میں۔بسم الله الرحمن الرحيماے اللہ کے بندے! ذرا اپنے اعمال پر غور کر۔ دنیا کی دشمنی، کسی کی بات، کسی کا بہکانا، چغل خوری، رشتہ داری، دوستی یا ذاتی فائدے کی وجہ سے کسی مسلمان کے خلاف کھڑے ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے حساب و کتاب کا تصور کر۔کیا معلوم جس شخص کے خلاف تمہیں بھڑکایا جا رہا ہو وہ حقیقت میں مظلوم ہو؟ کیا معلوم تمہارے سامنے پوری حقیقت نہ لائی گئی ہو؟ اگر تم نے تحقیق کیے بغیر کسی ایک فریق کی بات مان لی اور ایک بے گناہ مسلمان کے خلاف کھڑے ہو گئے، تو ممکن ہے کہ تم نادانستہ طور پر ظلم کا حصہ بن جاؤ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ﴾ترجمہ:”اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر نادم ہو جاؤ۔”(سورۃ الحجرات: 6)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ»ترجمہ:”آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بیان کرتا پھرے۔”(صحیح مسلم، مقدمہ، حدیث: 5)اور رسول اللہ ﷺ نے سخت تنبیہ فرمائی:«مَنْ ضَارَّ مُسْلِمًا ضَارَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ شَاقَّ مُسْلِمًا شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ»ترجمہ:”جو شخص کسی مسلمان کو نقصان پہنچائے، اللہ اسے نقصان پہنچائے گا، اور جو کسی مسلمان کو تکلیف اور مشقت میں ڈالے، اللہ اس پر سختی فرمائے گا۔”(جامع ترمذی، کتاب البر والصلة، حدیث: 1940 — حسن)ذرا غور کرو! انسان کسی مسلمان کو گرانے، اس کی عزت خراب کرنے، اس کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے، سازش کرنے، یا دوسروں کے بہکاوے میں آ کر اس کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کرے، مگر یہ بھول جائے کہ مظلوم کا رب زندہ ہے، دیکھ رہا ہے، اور اس کا انصاف ہر چیز پر غالب ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«اتَّقُوا الظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»ترجمہ:”ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب بنے گا۔”(صحیح مسلم، حدیث: 2578)اور فرمایا:«الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ»ترجمہ:”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے ظالم کے حوالے کرتا ہے۔”(صحیح بخاری: 2442، صحیح مسلم: 2580)یاد رکھو! اگر کسی مسلمان کی عزت، حق یا مقام کو ناحق نقصان پہنچایا گیا، تو معاملہ دنیا تک ختم نہیں ہوگا بلکہ قیامت کے دن حساب ہوگا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ الْيَوْمَ، قَبْلَ أَنْ لَا يَكُونَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ»ترجمہ:”جس شخص کے ذمہ اپنے بھائی کی عزت یا کسی اور حق کے متعلق ظلم ہو، وہ آج ہی اس سے معافی حاصل کر لے، اس دن سے پہلے جب نہ دینار ہوگا نہ درہم۔ اگر اس کے پاس نیک اعمال ہوں گے تو مظلوم کے حق کے مطابق اس سے لے کر اسے دے دیے جائیں گے، اور اگر نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے۔”(صحیح بخاری، کتاب المظالم، حدیث: 2449)لہٰذا اے مسلمان! کسی کے کہنے، کسی کے بہکانے، کسی دشمنی، رشتہ داری یا دنیاوی فائدے کی وجہ سے کسی کے خلاف کھڑے ہونے سے پہلے اچھی طرح تحقیق کر لو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم سمجھو کہ تم کسی کی مدد کر رہے ہو، لیکن حقیقت میں ایک مظلوم کے خلاف ظلم کا حصہ بن رہے ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں ظلم کرنے، ظلم کا ساتھ دینے، کسی مظلوم کی دل آزاری کرنے اور بغیر تحقیق کسی کے خلاف قدم اٹھانے سے محفوظ فرمائے۔اَللّٰهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ۔آمین یا رب العالمین۔مرتب و پیشکش: *مفتی عطاء الرحمٰن خان بھوپالی*

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *